متحدہ عرب امارات نے خون کے خلیوں میں کرونا وائرس کی موجودگی کا سراغ لگانے کے لیے تیز رفتار لیزر ٹیکنالوجی ایجاد کرلی ہے۔ یہ نیا لیزر آلہ کوانٹ لیز امیجنگ لیبارٹری نے تیار کیا ہے۔
اس آلے کے ذریعے خون کے خلیوں میں دخول کرنے والے کرونا وائرس کاانتہائ تیزی سے اور بیک وقت بڑی تعداد میں سراغ لگایا جاسکے گا اور اس کے نتائج صرف چند سیکنڈز میں دستیاب ہوں گے۔اس سے یو اے ای میں کرونا وائرس کے ٹیسٹوں کا دائرہ کار پھیلانے میں بہت مدد ملے گی۔ محققین وائرس سے متاثرہ خون کے خلیوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کررہے ہیں۔اس نئے آلہ کی مدد سے وائرس سے متاثر ہونے والے خون کے خلیوں کا فوری طور پر سراغ لگا سکے گا۔
اس لیزر آلے کی تیاری پر کام کرنے والے محققین کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر پرمود کمار نے کہا ہے کہ یہ نیا آلہ صارف دوست ہے، اور یہ بلکل بھی ضرررساں نہیں اور انتہائ کم لاگت میں تیار ہو جاتا ہے ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس ٹیسٹنگ ڈیوائس کو اسپتالوں میں اور عوامی مقامات ،دونوں جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
معمولی نوعیت کی تربیت کے بعد اس کو گھروں میں کرونا کے ٹیسٹ اور نگرانی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ہمیں یہ یقین ہے کہ یہ لیزر آلہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے انتہائ کار آمد ایجاد ثابت ہوگا۔
Comments
Post a Comment